111 510 510 libonline@riphah.edu.pk Contact

کرائے پر چیزیں لیکر میڈیکل کالج چلانے، کمائی کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی) کی قانونی حیثیت اور نجی میڈیکل کالجزمیں داخلہ پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت۔ دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ مجھے میو اسپتال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا،میں نے کسی کے اختیار کو استعمال یا اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ہر پرائیویٹ ہسپتال جانا پڑا تو جائیں گے۔ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے،پارلیمنٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ کتنے دن میں قانون بنائے،جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا،چیف جسٹس نے عطیات لینے والے میڈیکل کالجز کیلئے شکایت سیل کے قیام کی تجویز مسترد کر دی۔ جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ایم ڈی سی معطلی کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ سرکار کے خلا کو نجی میڈیکل کالجز نے پر کیا،،ہمارا مقصد پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو ختم کرنا یا تباہ کرنا نہیں ہے،،غلط میڈیکل کالجز بنانے والوں کے پس پردہ ذمہ داران کا تعین کریں گے،،میڈیکل کالجز کو کمائی کا زریعہ نہیں بننا چاہئے،،چاہتے ہیں انہی میڈیکل کالجز سے اچھے ڈاکٹر بنیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ مجھے میو اسپتال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا،،میں نے کسی کے اختیار کو استعمال یا اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،،بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ہر پرائیویٹ ہسپتال جانا پڑا تو جائیں گے، کرائے پر چیزیں لے کر میڈیکل کالجز چلانے کی اجازت نہیں دیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے میڈیکل کالجز میں اصلاحات کے لئے معاونت لینی ہے،آج تک طالبعلموں کے حقوق کو سلب کیا گیا،ڈاکٹر عاصم کو معاونت کیلئے بلایا ہے،ڈاکٹر عاصم نے تہمتیں بھی برداشت کیں،حکومت نے خلا کو پر کیوں نہیں کیا،ہماری بیٹیاں ذیادہ نمبرز لیکر میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے دور دراز علاقوں میں جاتی ہیں۔ وکیل پی ایم ڈی سی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چار ممالک سے ٹیکنالوجی اور معیار سے پیچھے مگر تعداد میں برابر ہیں،پاکستان کو اس وقت پانچ لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں، پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد ایک لاکھ 64ہزار ہے، سپیشلسٹ ڈاکٹر کی تعداد 47ہزار سے زائد ہے،25ہزار سپیشلسٹ ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پانچ لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں عطائی نہیں،ایسے ماہر سرجن درکار ہیں جو آپریشن کریں،ایسے ماہرین نہیں جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور اسکا گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں، ان خرابیوں پر قابو پانے کیلئے آپ ہماری معاونت کریں۔چیف جسٹس نے عطیات لینے والے میڈیکل کالجز کیلئے شکایت سیل کے قیام کی تجویز مسترد کر تے ہوئے کہا کہ شکایت سیل کا قیام اچھی تجویز نہیں ہے،اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے عطیات لینا کسی کا حق ہے اور ہم اس پر صرف شکایت سیل بنا رہے ہیں،عطیات لینے پر ہم اپنے حکم کے زریعے پابندی لگائیں گے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے کو ہم خود دیکھیں گے۔ اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا کہ کابینہ نے کل مجھ سے پی ایم ڈی سی آرڈینینس اور میڈیکل کالجز کے موضوع پر بریفنگ لی ہے، حکومت اپنے مشترکہ اجلاس میں اس معاملے پر اہم فیصلے کریگی، اس معاملے پر قانون سازی کی جائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب، بھارتی فیصلوں کے حوالے نہ دیں،پاکستان کے عدالتی فیصلے موجود ہیں،اگر کوئی پاکستانی فیصلہ موجود نہ ہو تو غیر ملکی فیصلوں کے حوالے دیں،پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کئی ماہ کیس ہائی کورٹ میں چلتا رہا ،سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو حکومت کو ہوش آگئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہے کہ قانون سازی کا عمل جلد مکمل ہو،عدالت سے بہترین معاونت فراہم نہ کرنے پر معذرت خواہ ہوں، عدالت کو تحریری دلائل فراہم کر دونگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر درخواستیں خارج کردیں تو پی ایم ڈی سی کون چلائے گا۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ درست ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون ختم ہونے کے بعد کونسل قائم نہیں رہ سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ کتنے دن میں قانون بنائے،جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا،اگر آپ کابینہ یا وزیراعظم کو بریفنگ دے رہے ہیں تو انہیں بتائیں یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے،اس مسئلے کے حل کیلئے فوری قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پارلیمنٹ اس پر قانون سازی نہیں کریگی،یہ معاملہ سینیٹ میں پہلے بھی اٹھایا گیا تھا، سینیٹ میں اسکی شدید مخالفت کی گئی تھی، کہا گیا یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مسلے کا حل اٹارنی جنرل کی معاونت سے ہی ہو گا،قانون سازی کرنا حکومت کا ہی کام ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں جو بھی بحث ہو گی اس سے حکومت کو بہت مدد ملے گی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو بھارتی عدلیہ کے فیصلے کا حوالہ دینے سے روک دیا اور کہا اٹارنی جنرل آفس کو بھارتی عدلیہ کے فیصلوں سے عشق ہے، پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دے سکتے تو اٹارنی جنرل کی ضرورت نہیں،ایسے حوالے دیں جس سے قانون ختم ہونے کے بعد بھی کونسل اور اسکے ایکشن برقراررہیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی ہے۔

Title : کرائے پر چیزیں لیکر میڈیکل کالج چلانے، کمائی کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے: چیف جسٹس
Author : Saqib Nisar
Type : News
Role Performer : The author
Subject : Court proceedings-PMDC
Publisher : روزنامہ نوائے وقت
Publication Place : Islamabad
Date : 2018-01-12
Language : Urdu



blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ